جمعہ، 8 اکتوبر، 2021

کرونا وبا نے بےروزگار کردیا۔۔۔

 تحریرکرن قاسم سے 

سانحہ عطاءآباد اور کرونا وائرس نے گلگت بلتستان کے کئی تاجروں کو بے روزگار کر دیا اور امپورٹ ایکسپورٹ کا کام چھوڑ کر ممتو بیچنے پر مجبور کر دیا۔۔


 ۔عارف میر سوست بارڈر پر خنجراب کے راستے پاک چین سرحد ی تجارت سے منسلک تھے اور سوسٹ ڈرائی پورٹ پر کسٹم کلیئرنگ کے ساتھ ساتھ امپورٹ ایکسپورٹ کا کام کرتے تھے کہ 4جنوری 2010ءکو عطاءآباد گاﺅں دریا ہنزہ میں گر گیا اور دریا کا بہاﺅ بند ہونے کی وجہ سے جھیل بن گئی۔۔


 جس کی وجہ سے ہنزہ کے تحصیل گوجال اور خنجراب کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا جس کی وجہ سے پاک چین سرحدی تجارت سے وابستہ ہزاروں تاجر وں کا کاروبار تباہ ہو گیا اور ہزاروں مزور بے روزگار ہو گئے جبکہ عطاءآباد جھیل کے مقام متبادل سڑک کی بحالی کے بعد کئی تاجروں نے اپنا کاروبار دوبارہ بحال کیا تھا لیکن 2019ءمیں کرونا وباءنے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔۔


جس کی وجہ سے پاک چین بارڈر ایک مرتبہ پھر بند ہو گیا اور جن لوگوں نے پاک چین سرحدی تجارت کو بحال کیا تھا ایک مرتبہ پھر بے روزگار ہو گئے ہیں جن میں سے بہت ساروں کو شدید مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے ان میں ایک تاجر عارف میر ہیں جنہوں نے امپورٹ ایکسپورٹ کے کاروبار میں شدید مالی خسارے اور بعد ازاں شدید مالی مشکلات کا شکار ہو کر شعبہ بدل دیا ہے اور گلگت شہر کے وسط میں ایک ریڑھی لگا کر گرمیوں میں دیسی آئسکریم اور سردیوں میں ممتو اور یخنی بیچنے کے کاروبار کا آغاز کیا ہے۔۔۔


اس حوالے سے عارف میر کا کہنا ہے کہ کسی کے اگے ہاتھ پھیلا نے سے کوئی کام کاج کرے تو میں نے بھی دو سال بے روزگاری کی زندگی گزاری بچوں کے اسکول کے فیسوں میں ائے روز اضافے کے ساتھ گھر کے اخراجات میں بھئ تیزی سے اضافہ ہونے لگا جس زندگی گزارنا مشکل ہوگیا پھر سوچ کے دیسی ائس کریم بنانے کا خیال ایا یوں دیسی ائس کریم بنانے لگا۔۔


 اور اللہ کے بے حد شکر گزار ہوں جس نے میرے کاروبار میں برکت دیا اور میری زندگی اب ایک بار پھر معمول کے مطابق چلنے لگی ہے اب سردیوں کے موسم میں ائس کریم بنانے کے بجائے دیسی مرغ کی یخنی اور ممتو بنانا شروع کیا ہ



ے انشاءاللہ اللہ تعالی میری مدد کرے گا اور میرا کاروبار کامیابی کے طرف گامزن ہوگا۔۔۔عارف میر نے کہا اب جو بھی کام شروع کرے تو یہ نہیں سوچے لوگ کیا کہینگے۔۔کیوں محنت اور مشقت کی کمائی میں جو برکت اور دلی سکون ہے وہ کسی اور کام میں نہیں ۔۔۔



عارف میر نے کہا کہ کرونا اور سانحہ عطااباد سے جو کاروباری حضرات متاثر ہوئے تھے حکومت نے ان تاجروں کی کوئی مالی مدد نہیں کیا۔۔۔لیکن اللہ تعالی کھبی بھی اپنے بندے کو بھوکا نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔

بدھ، 6 اکتوبر، 2021

دارالامان ہوتا تو پولیس سٹیشن جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔۔

  کرن قاسم۔

سابقہ ممبر اسمبلی گلگت بلتستان رانی عتیقہ غضنفر نے میی


2019 میں  اسمبلی سے ایک قرارداد پاس کروانے میں کامیاب ہوئی تھی جس میں لکھا ہوا تھا کہ گلگت بلتستان کے 3 ڈویزن میں بے سہارا ،یتیم اور مظلوم خواتین کے لئے دارالامان کا قیام عمل میں لایا جائے ۔۔

پہلے مرحلے میں صوبائی دارالحکومت گلگت شہر میں اور پھر سکردو اور دیامر میں گلگت شہر میں دارالامان کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات تو اٹھائے گئے تھے مگر تاحال دارالامان کا قیام ممکن نہیں ہوسکا ہے ۔

۔گلگت شہر میں کچھ مجبور اور بے بس خواتین اور بچیاں تحفظ کے لیے پولیس سٹیشن پہنچتی ہے مگر محکمہ  پولیس کے پاس اتنے وسائل نہیں ہے کہ خواتین کو تحفظ اور ان کے رہنے کےلئے بندوبست کرے ۔۔حال ہی میں ایک خاتون نے بتایا۔۔

 کہ کچھ گھریلو ناچاقیوں کی وجہ سے پولیس سٹیشن پناہ لینے پہنچی مگر پولیس سٹیشن میں خواتین کو الگ اور محفوظ مقام فراہم کرنے کے لیے جگہ نہیں اگر خواتین کو ویمن پولیس سٹیشن میں رکھا جائے تو بھی تحفظ کی ضمانت ممکن نہیں خاتون پولیس سٹیشن سے مایوس لوٹنے پہ مجبور ہوجاتی ہے۔


۔۔خواتین کے لئے کوئی ایسا  پلیٹ فارم یا شیلٹر ہوم میسر نہیں جس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے ۔۔ 


صوبائی حکومت گلگت شہر میں دارالامان کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے تاکہی متاثرہ خواتین کو سر چھپانے کے لئے کوئی چھت مل سکیں ۔

۔ممبران خواتین اسمبلی کو بھی گلگت بلتستان میں دارالامان کی قیام کو یقینی بنانے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔۔

منگل، 5 اکتوبر، 2021

نائب قاصد کی بیٹی نے قراقرم بورڈ میں تیسری پوزیشن اپنے نام کر لیا ۔۔۔

 تحریر کرن قاسم 

 نگر ہسپر سے تعلق رکھنے والے پی ڈبلیو ڈی گلگت کے نائب قاصد منظور حسین کی بیٹی نے قراقرم بورڈ میں  تیسری پوزیشن حاصل کر کے اپنے خاندان اور سکول کا نام روشن کیا ۔۔۔۔

نائب قاصد منظور حسین سے ملاقات ہوئی منظور حسین نے بتایا کہ تعلیم کے غرض سے نومل میں  رہائش پذیر ہیں بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کا خواب دیکھا ہے اور معیاری تعلیم دلوانے کے لئے بیٹی کو ڈائمنڈ جوبلی سکول نومل میں  داخل کیا ۔۔

۔بیٹی کی تعلیم کو جاری رکھنے کےلئے ہر مشکل کا مقابلہ کیا اج میری بیٹی نے میرا سر فخر سے بلند کیا۔۔۔غریب ہوں لیکن بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کا عزم ہے تعلیمی اخراجات پوری کرنے کے لئے اگر زمین بھی فروخت کرنا پڑا ت


و کرنگا مگر اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلوا کے اعلی عہدوں پہ دیکھنے کا میرا خواب ہے۔۔۔فرحانہ منظور نے بتایا کہ میں اپنے والدین کا خواب پورا کرنگی اور سخت سخت محنت کر کے اپنے والدین کے خواب کو عملی جامعہ پہناونگی۔۔۔۔

آغاخان بورڈ کے پوزیشن ہولڈرز طلبا و طالبات

کرن قاسم سے 



 آغا خان ایجوکیشن سروس گلگت بلتستان میں امتحانی  بورڈ کے


 سالانہ  امتحانات میں طلبہ کی شاندار کامیابی پر  تقریب کا انعقادت

آج یوم اساتذۃ کے موقع پرپوری دنیا کی طرح آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان ، گلگت بلتسان میں بھی  یہ دن جوش و خروش سے منایا گیا ۔آج کے اس دن  کو تمام اساتذہ نے مل کر  حالیہ  بورڈ امتحانات میں  امتیازی نمبر لینے والے طلبہ کے نام کرتے ہوئے اُن کی شاندرا کامیابی کو سراہنے کےلئےایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا ۔ جس میں ادارہ ہذا کے زیر انتظام  چلنے والے آغا خان سکول ، آغا خان  ڈائمنڈ جوبلی سکول اور آغا خان ہائیر سیکنڈری سکولوں کی ثانوی اور اعلیٰ ثانوی جماعتوں کےسالانہ  امتحانات  برائے  2021 - 2022 زیر انعقاد قراقرم انٹر نشنل  یونیورسٹی امتحانی بورڈ اور آغا خان یونیورسٹی  امتحانی  بورڈ میں کلی طور پر نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو اعزازات سے نوازا گیا ۔ اس موقعے پر گلگت بلتسان کے آغاخان ایجوکیشن سروس کے زیر نگرانی  مصروف علم  اُن تمام سکولوں کے طلبہ اور اُن کے والدین کو مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے مذکورہ امتحانات میں ششاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا ۔ 

اس پروگرام  کے صدر تقریب  اسماعیلی ریجنل کونسل ہنزہ  کرنل ( ریٹائرڈ) امتیاز الحق تھے جبکہ مہمان خصوصی اسماعیلی ریجنل کونسل  کراچی کےعارف سچوانی تھے۔ دیگر  مہمانوں میں سکریٹری ٹو گورنر گلگت بلتستان راجہ  فصل خالق  ، سکریٹری  برائے خوراک  مومن جان ،  صدر اسماعیلی ریجنل کونسل اشکومن پنیال ،  صدر اسماعیلی ریجنل کونسل گوپس یاسین ، صدر  اسماعیلی ریجنل کونسل گلگت ، وزیر فدا علی ایثار کے علاوہ  جنرل منیجر آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان ( گللگت بلتستان و چترال ) بریگیڈئیر  ( ر) خوش محمد خان، آغا خان ایجوکیشن گلگت آفس کے اہل کاروں کے علاوہ اساتذہ اور سکول لیڈر شب کی  بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع  پرجنرل منیجر ادارہ ہذا نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور  پروگرام کے  حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے  پاکستان میں علم کی روشنی پھیلانے میں آغا خان ایجوکیشن سروس کی خدمات کو ایک صدی پر محیط علمی تاریخ کا سنہر اباب قرار دیتے ہوئے  کہاکہ  گلگت بلتستان میں گزشتہ 7 عشروں سے یہاں   کے دور افتادہ علاقوں کے نونہالوں کو زمانے کے  جدید تقاضوں کے مطابق اعلٰی اور معیاری تعلیم کی رسائی  میں ادارہ ہذا کا  کر دار ہمیشہ سے مثالی رہا ہے   ۔ انہوں نے ہز ہائنس کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے میدان میں معلوم چیزوں پر وقت صرف کرنا تعلیم کا مقصد  ہر گزنہیں ہے بلکہ تعلیم کا اصل مقصد طلبہ  کے ذہنوں  میں پوشیدہ چیزوں کی کھوج بین کی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے ۔ ہز ہائنس کے اس فکر انگیز خیال کی روشنی میں ادارہ ہذا طلبہ کو تحقیقی نظام ِتعلم سے گزار کر اُنہیں دنیا کو مستقبل میں پیش آنے والے  چیلنجوں کے لئے  تیار کرنے میں کوشاں ہے ۔ اس مقصد  کے حصول کےلئے ادارہ  بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت ( Early childhood Education ) اور اساتذہ کی تربیت پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر رہی ہے  جس میں طلبہ کے لیے سیکھنے سے متعلق بہترین علمی  مواد کی فراہمی ، جدید طریقہ تدریس کےلئے  موزوں کمرہ جماعت اور قومی نصاب کو اُس کی اصل روح کے ساتھ پڑھانے کی کوشش شامل ہے  ۔ تدریسی سرگرمیوں  میں PrISM (Personal, Intellectual, Social and Moral development) کو متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے طلبہ میں خود اعتمادی ، دانشماندانہ  سوچ ، سماجی اور اخلاقی اقدار کی تربیت دی جاتی  ہے تاکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی بہترین نہج    پر اعلی ٰ اخلاقی  تربیت بھی ہو سکے ۔  

عالمی وبأ کی وجہ سے جہاں زندگی تمام شعبے  متاثر ہوئے وہاں اس کا سب سے مہلک اثر تعلیم پر پڑا لیکن اللہ کے فضل و کرم سے  آغا خان ایجوکیشن سروس نے  اپنے طلبہ کے تعلیمی سفر کو بغیر کسی خلل کے جاری  رکھنے کے ضمن میں ایک ایسا تدریسی و مطالعاتی  پیکیج  متعارف کرایا کہ جس کے ذریعے  سلیبس میں شامل تمام  موضوعات کے احاطے کےلئے حرکی اسباق ریکارڈ کرواکے  طلبا کے گھروں تک پہنچائے گیے اور دوسری  طرف گوگل کلاسوں کا اجرأ عمل میں لایا گیا تاکہ  طلبہ وبأ کے مضر اثرات سے محفوظ رہتے ہوئے اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں ۔  آج ہمارے طلبہ نے وبائی  صورت حال کے باوجود  اپنی پڑھائی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت  نہیں کیا اور دونوں بورڈ ز ، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی  امتحانی بور اور آغا خان یونیورسٹی امتحانی بورڈ میں امتیازی نمبروں سے سالانہ امتحان پاس کرنے کا اعزاز حاصل کیا  جو کہ قابل ہزار تحسین ہے ۔

جنرل منیجر کی تقریر   کے بعد   دونوں بورڈز میں امتیازی نمبروں سے  سالانہ امتحان  پاس کرنے والے طلبا و طالبات میں تقسیم   انعامات    کا سلسلہ جاری  رہا ۔   سرکاری وغیر سرکاری  محکموں  کے  علمداروں نے طلبہ  اور   متعلقہ  سکولوں  کے  اساتذہ میں  تعریفی شیلڈز، اسناد اور انعامات تقسیم کیے ۔  اس رنگا رنگ تقریب میں   ڈائمنڈ جوبلی ہائی سکول سونی کوٹ کی طالبات نے   ملی  اور قومی   نغمے  گا کر   محفل لطف بخشا  ۔اس کے بعد پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے معروف دینی عالم ، ادیب ، مفکر اور شاعر جناب فدا علی ایثارؔ نے آغا خان ایجوکیشن سروس کے مونوگرام  " اقرا" سے اپنی گفتگو کا آغاز کیا اور سیکھنے سیکھانے کے عمل کو پیشۂ  پیغمبری  پر منتج کرتے ہوئے  علاقے میں سکولوں کے جال بجھانے کے ضمن میں ہس ہائنس کی خد مات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔    اسکے بعد  صدر  ریجنل کونسل  کراچی عارف سچوانی نے  شرکا ٔ سے خطاب کرتے ہوئے  طلبہ کی شاندار کامیابی پر  طلبہ   اور والدین کو   مبارکباد  پیش کی اور  اساتذہ  کی  کاوشوں کی تعریف کی ۔


اتوار، 3 اکتوبر، 2021

قدرت کے ساتھ اکاونٹ (کرن قاسم)

 اج ابو کے ناخن تراشتے ہوئے ابو کوئی موبائل فون پہ کسی کا انٹرویو سن رہے تھے ۔۔۔

ناخن تراشتے میرا دھیان بھی انٹرویو پہ گیا جس کے ہر لفظ میرے لئے باعث حیرانگی اورتعجبی تھا ۔۔۔

 انٹرویو دینے والا کوئی استاد تھا جس نے کہا کہ میں نے اپنے شاگرد سے کہا کہ قدرت کے ساتھ اکاونٹ بنائے رکنا جو اپ کی زندگی بدل دے گا شاگرد نے پوچھا قدرت کے ساتھ کیسے اکاونٹ بناوں ۔۔۔

تو میں نے کہا اپ جس افس میں کام کرتے ہیں چھٹی تک وہ اپ کا اپنا کام ہے جس کے اپ خو تنخواہ ملتی ہے اور اس کے علاوہ اپ کسی کی مدد کرینگے کسی کا کوئی مسلہ حل کرینگے وہ اپ کے قدرت کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا جائے گا ۔۔۔

شاگرد نے ایسا ہی کیا فارغ وقت دفتر کے دوسرے لوگوںں کی مددکرتے رہے اور اخر ایک دن وہ اسی کمپنی کے ہیڈ بن گئے

مختصر یہ کہ قدرت کی اکاونٹ میں مثبت اور منفی دونوں اکاونٹ بنتے ہیں ۔۔۔


اگر اپ کام چور ہو اپنا کام وقت پہ نہیں کرتے ہو مختلف طریقوں سے بنک بلینس بنانے کے چکر میں حلال حرام میں فرق کرنا بھو جاتے ہو ناجائز طریقے سے پیسے حاصل کر کے زمین جائیداد بناتے ہو تو وہی زمین جائیداد  گلے کا طوق بن جاتا ہے۔۔۔ ایسی بیماری میں  مبتلا ہوجاتے ہیں جس سے چھٹکارا حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے 

ہفتہ، 2 اکتوبر، 2021

خواتین کی ترقی میں خواتین ہی رکاوٹ( کرن قاسم)

 اچھی کارکردگی سے آپ کی پہچان

تحریر کرن قاسم ۔۔۔۔

جب اپ کوئی اچھا کام کرتے ہیں عوامی مفاد میں تب اپ کی پہچان عوام میں بڑھ جاتی ہے اپ اچھے نام سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں لوگ  مختلف محفلوں میں اپ کے اچھے کاموں کا تذکرہ کرتے تھکتے نہیں۔۔۔عوام اپ سے ملنے کی خواہش رکھتے ہیں اپ کے ساتھ تصویر بنانا فخر محسوس کرتے ہیں ۔۔۔کیونکہ اپ عوامی لیڈر کے صف میں آکھڑا ہوتے ہو اپنے اچھے کام اخلاق کی وجہ سے عوام کے دل میں جگہ بنا لیتے ہو۔۔۔ بلکل قارئین جب سے گلگت بلتستان میں صوبائی سیٹ اپ کا درجہ دیا گیا ہے تب سے گلگت بلتستان میں اسمبلی کے لئے خواتین کے لئے مختص نشستوں پہ خواتین کا انتخاب کا عمل انتہائی دلچسپ ہوتا جارہا ہے ۔۔۔۔2009 میں 6خواتین اسمبلی میں آئی جن میں سعدیہ دانش نے اپنا ایک مقام بنایا جس نے محنت کی اور اپنے محنت کے بل بوتے پہ اپنے لیے بہترین جگہ بنائی اور اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی پارٹی سے دور نہیں رہی پارٹی کے ساتھ رہی ہر میٹنگ میں پیش پیش رہی ۔۔اسوقت سعدیہ دانش کے ساتھ۔۔۔یاسمین نظر صاحبہ بھی تھی جو پارلیمانی سیکٹری رہی جیسے ہی حکومت کی مدت پوری ہوئی یاسمین نظر اپنی فیملی کے ساتھ امریکہ شفٹ ہوئی۔۔۔۔شیرین فاطمہ بھی اسمبلی ممبر رہی مگر تاحال پارٹی کے ساتھ وفادار ہے۔۔۔مہناز ولی صاحبہ بھی تھی جو جمعیت علماء اسلام کے ٹکٹ سے اسمبلی کی مخصوص نشست میں اپنی جگہ بنانے میں  کامیاب ہوئی مگر حکومت کی  مدت ختم ہونے کے بعد منظر عام سے ہی غائب ہوئی ۔۔۔آمنہ انصاری صاحبہ بھی ممبر اسمبلی تھی ق لیگ کے ٹکٹ سے بعد میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر کے اسمبلی کے جنرل سیٹ کے لئے الیکشن لڑی مگر کامیاب نہیں ہو سکی آمنہ انصاری بھی اپنے منفرد انداز اور رویے کی وجہ عوام میں مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔۔۔دیامر سے مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی گل میرا صاحبہ بھی خاموش رکن کی حثیت سے رہی ۔۔۔۔۔۔2015 میں بھی مخصوص نشست پہ 6خواتین منتخب ہوئی پاکستان مسلم لیگ ن سے ثوبیہ مقدم ،نسرین بانو ،رانی عتیقہ، شیرین اختر،اور اپوزیشن جماعت سے تحریک اسلامی کی ریحانہ عبادیاور مجلس وحدت المسلمین سے بی بی سلیمہ ۔۔۔۔مختصر یہ کہ ان خواتین اسمبلی نے گلگت بلتستان کی خواتین کی فلاح کے کوئی تاریخی پروجیکٹ دینے میں مکمل ناکام رہی ۔۔۔نہ ہی مستقل بنیادوں پر ووکیشنل سینٹر کا قیام عمل لا سکی نہ ہی خواتین کے حقوق کے متعلق قانون سازی کر سکی ۔۔۔خواتین ممبران اسمبلی نے خاموشی سے 5سال گزارے۔۔اور یہ خواتین میڈیا سے بھی دور رہی ۔۔۔2020 کے الیکشن کے بعد بھی کچھ خواتین اسمبلی کا حصہ بنی جن میں مجلس وحدت المسلمین کی کنیز فاطمہ،پاکستان تحریک انصاف کی،کلثوم الیاس،دلشاد بانو،ثریا زمان اور اپوزیشن جماعت سے پاکستان پیپلزپارٹی کی سعدیہ دانش اور پاکستان مسلم لیگ ن سے رانی صنم فریاد  شامل ہے اور ان حکمران جماعت کی  ممبران خواتین اسمبلی کو کوئی وزیر کا عہدہ نہیں دیا گیا۔۔حکمران جماعت کا کہنا تھا کہ جو الیکشن لڑ کے اسمبلی ائے ہیں ان کو اہمیت دی گئ خواتین تو اسانی سے اسمبلی ائی ان کی کوئی محنت نہیں ۔۔۔جو کچھ ان کو ملا ہے اس کو غنیمت جان کے گلگت بلتستان کی خواتین کے لئے کام کرے۔۔۔ممبران خواتین اسمبلی صرف خواتین کی ترقی کے لئے کام کرے اپنی ADP خواتین کے فلاح و بہبود کے منصوبوں پہ مختص کرے۔۔۔۔کیونکہ عوامی مفاد کے منصوبے دینے کے لئے عوامی نمائندے موجود ہے۔۔۔۔اگر ممبران خواتین اسمبلی صیح معنوں میں گلگت بلتستان کی خواتین کے لئے کام کرے گی خواتین کے حقوق کے متعلق قانون سازی کرے گی۔۔گلگت بلتستان کے دور دراز کے علاقوں کا دورہ کر کے مسائل جاننے کی کوشش کرے گی ۔۔۔۔خواتین کے کن امور پہ قانون سازی کی ضرورت ہے کسی ماہرین سے رابطہ کر کے قانون سازی کرے گی۔۔اور گلگت بلتستان کی خواتین کو ہنر مند بنانے کے لئے دستکاری کی تربیت گاہ قائم کرے گی۔۔۔دور جدید کے تقاضوں سے خواتین کو ہم اہنگ کرنے کے لئے کمپیوٹر کی تعلیم دے گی ۔۔۔خواتین کو کوکنگ کی تربیت گاہ قائم کرے گی۔۔۔کاروبار سے منسلک خواتین کو کاروبار اور تجارت کے حوالے سے تربیت کے ساتھ اسان اقساط پہ قرضہ فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گی ۔۔۔۔اس قسم کے منصوبے دینے سے خواتین ترقی کے راہوں پہ گامزن ہوگی اور خواتین کے لئے روزگار کا حصول بھی ممکن ہوگا۔۔۔۔اگر ان منصوبوں پہ عملی طور پر کام کرے گے ایسی خواتین ممبران اسمبلی کا نام رہتی دنیا تک رہے گا۔۔۔۔اگر روایتی انداز میں چلے گی تو گلگت بلتستان میں خواتین کی ترقی خواب ثابت ہو گا۔۔۔۔۔۔اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ اسمبلی جانے کے بعد ممبرز سکھینگے اور تب جا کے عوام کے مفاد میں کام کرینگے لیکن میں اتنا ہی کہوں گی اسمبلی نہ کوئی تربیت گاہ ہے نہ درسگاہ جہاں سے کوئی ممبر سیکھ کے نکلے بلکہ اسمبلی وہ جگہ ہے جہاں پہ گلگت بلتستان  کے عوام مستقبل کے فیصلے کئے جاتے ہیں جہاں پہ قانون سازی کی جاتی ہے ۔۔۔اسمبلی میں پہلے بھی عوامی نمائندے تھے  اور خواتین ممبران اسمبلی تھی جو کافی کچھ سیکھ کے نکلی مگر ان کو دوبارہ ان کی تجربے کی وجہ سے نہیں چنا گیا کیوں کے ان کی کارکردگی صفر تھی ۔۔ ۔اس لئے خواتین ممبران اسمبلی اپ کے لیے بھی 5سال سیکھنے سمجھنے کے نہیں بلکہ خواتین کے حقوق کے متعلق قانون سازی کرنا ہے خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔۔۔۔۔۔


گلگت بلتستان کی ہنر مند خاتون


تحریر کرن


قاسم 

 گلگت بلتستان کی خواتین نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے خواتین نے خود کو بااختیار اور مضبوط بنانے کے لئے گھر سے ہی دستکاری کاکام کا اغاز کیا۔۔

 جس کی وجہ اج وہ اور بھی بہت ساری خواتین کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہے ۔۔

اج ایک ایسی ہی خاتون سے میری ملاقات ہوئی جس کی کہانی سن کے میں حیران ہوئی ایسی بھی خواتین ہے خو نہ صرف اپنا سوچتی ہے بلکہ دوسری خواتین کے لئے بھی مشعل راہ ہوتی ہے فاطمہ گھریلوں دستکاری نامی خاتون جو ڈپٹی کمشنر ہاوس کے ساتھ ایک چھوٹے سے سرکاری کواٹر میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتی ہے ۔۔


کواٹر چھوٹے کمروں ایک کیچن ایک واش روم پر مشتمل ہےساتھ برامدے کے ایک کونے میں ایک ٹیبل پہ سلائی مشین اور ایک کرسی ہے کرسی پہ بیٹھ کے فاطمہ سلائی کڑاہی کا کام کرتی ہے فاطمہ مختلف قسم کے ہاتھ سے بنے مصنوعات نہایت مہارت  اور پائیداری سے بناتی ہے پٹو کے بیگ ،مردانہ زنانہ بیگ ،کرتی جس پہ ہاتھ کی دوستہ کی کڑاہی سے پٹی بناتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کشن ،بیڈ شیٹ بہت ہی خوبصورت اور مختلف ڈیزائن میں بناتی ہے فاطمہ کی کام میں مہارت اور پائیداری کے باعث لوگ فاطمہ کو ڈیمانڈ دے کے مصنوعات بناتے ہیں یوں فاطمہ کاگزر بسر بہتر انداز میں ہوتا ہے ۔۔جیسے کہا جاتا ہے کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے بلکل اسی طرح ایک کامیاب عورت کے پیچھے بھی ایک مرد کا ہی ہاتھ ہوتا ہے ۔۔فاطمہ کے شوہر نے ہر قدم پہ فاطمہ کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے فاطمہ کے حوصلے مزید بلند ہوئے اور فاطمہ نے نہ صرف اپنا سوچا بلکہ دوسرے خواتین کو بھی اپنے ساتھ کر کے ان کو بھی روزگار کے مواقع فراہم کئے۔۔۔فاطمہ کے مطابق اس نے سلائی کڑاہی کی کمائی سے زمین خریدی اور گھر تعمیر کیا اور اپنے بچوں کو بہترین اسکول میں معیاری تعلیم دلوا رہی ہے ۔۔فاطمہ نے دوسری خواتین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ خواتین گھر میں خالی نہ بیٹھے سوئی اوردھگا لے کڑاہی کا کام شروع کریں ۔۔اور اپنے لئے روزگار کے مواقع تلاش کرے صرف سرکاری ملازمت کچھ نہیں اگے بڑھنے کےلئے اپ گھر سے ہی ہاتھ سے بنائے مصنوعات بنا کے خود کو روزگار کے قابل بناسکتے ہو۔۔۔فاطمہ نے ساتھ یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے ہنر مند خواتین کی فلاح کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں کوئی ایسا پیلٹ فارم نہیں جہاں پہ خواتین اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے مصنوعات کی تشہیر کرے جس سے خواتین کو زیادہ فائدہ مل سکے۔۔۔۔

کرونا وبا نے بےروزگار کردیا۔۔۔

 تحریرکرن قاسم سے  سانحہ عطاءآباد اور کرونا وائرس نے گلگت بلتستان کے کئی تاجروں کو بے روزگار کر دیا اور امپورٹ ایکسپورٹ کا کام چھوڑ کر ممتو ...